ہندوستان نظم

 ہے ہندوستان میری جان مجھ کو جاں سے پیارا ہے 

شہیدوں نے اسے اپنا لہو دے کر سنوارا ہے


  بلند کہسار ، بہتی ندیوں اور زرخیز گیتی سے

 عجب سی دل کشی دے کر اسے رب نے نکھارا ہے


 کبھی دنیا کے نقشے میں اسے دیکھو تو لگتا ہے 

ہزاروں تاروں کی جھرمٹ میں اک روشن ستارہ ہے 


یہاں ہندو مسلماں سکھ عیسائی مل کے رہتے ہیں 

مثالی ساری دنیا میں یہاں کا بھائی چارہ ہے

 

ہمالے کی بلندی ، آب رود گنگ کی لہریں 

قطب مینار ، حسن تاج نے اس کو سنوارا ہے


 ہمیں الزام مت دو ہم بھی اس مٹی سے اٹھے ہیں

 ہے جتنا حق تمہارا اس پہ اتنا ہی ہمارا ہے

 

ہراول ہی رہے ہم سر بکف سینہ سپر ہوکر 

مدد کے واسطے اس نے ہمیں جب بھی پکارا ہے


 تمہیں جانا ہے جاؤ ہم یہیں پر جان دے دیں گے

 وطن کو چھوڑنا بالکل نہیں ہم کو گوارا ہے 


 ہزاروں کوششیں دشمن کی سب بے کار جائیں گی

 خدا کا اے فراغانی تجھے جب تک سہارا ہے

 

مرزا فراغانی

شہر مدینہ

 بادیدہ پرنم،ہوں چلا شہرِ مدینہ
پہونچادے مرے مولا مجھے شہرِ مدینہ
اعمال مرے ایسے کچھ اچھے نہیں لیکن
امّید کرم لے کے چلا شہرِ مدینہ
ہے رختِ سفر عشق،تو ہے شوق سواری
لرزیدہ قدم سے ہوں چلا شہرِ مدینہ
رک جاؤ فرشتو!نہ ابھی چھیڑو مجھے تم
چلنے دو ذرا تیز مجھے شہرِ مدینہ
مدت کی تمنا مری ہوجائے گی پوری
پہونچے گا مرا قافلہ جب شہرِ مدینہ
اے جذبہء دل اب تو ذرا صبر تُو کر لے
کچھ پل میں ہی آجائے گا بس شہرِ مدینہ
بے تاب ہوں اتنا کہ ہر اک آن کسی سے
کہتا ہوں نظر آئے گا کب شہرِ مدینہ ؟
شاید کہ رحم کردے خدا ان کے ہی صدقے
اس حوصلے سے میں ہوں چلا شہرِ مدینہ
سوجان سے قربان میں اس غیبی ندا پہ
"لو دیکھ لو،آجاؤ،یہ ہے شہرِ مدینہ"
رحمت خدا کی برسے،برستی رہے سدا
محفوظ رکھے میرا خدا شہرِ مدینہ
میری ہے کیا  اوقات بھلا؟نعت لکھوں میں!
ہر شعر میں بس کہتا رہا "شہرِ مدینہ"
x
x

شیطانی مفتی

*اللہ تعالی نے اپنے کچھ مخصوص بندوں کو عقل سلیم اور فہم سلیم عطا فرما کر قرآن و حدیث سے مسائل کے استنباط کی صلاحیت عطا کی تو دوسرے مقبول بندوں کو ان مسائل کی باریکیاں سمجھنے کی صلاحیت ودیعت فرما کر کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنے کا ملکہ دیا۔۔جب کہ کچھ بدنصیبوں کے دلوں ، آنکھوں اور کانوں پر مہر لگا دی گئی جس کی وجہ سے وہ کتاب و سنت سے مستنبط مسائل کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں نہ قرآن و حدیث پڑھ کر خود کچھ سمجھ سکتے ہیں ۔۔بس شیطان جو خرافات ان کے دل و دماغ پر الہام کرتا ہے اسی کو علم یقین جانتے ہیں اور اسی کو لوگوں میں عام کرتے ہیں جسے وہ "رائے" کا نام دیتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ "شیطانی فتوی" ہوتا ہے جس کی آڑ میں وہ "اسلامی فتووں" سے مسلمانوں کو بدظن کر دینا چاہتے ہیں۔۔۔یہی لوگ لبرل یعنی (شیطانی مفتی) کہلاتے ہیں!*
®منکووووووول™

"انشاء اللہ" یا "ان شاء اللہ"؟؟؟؟؟

سوشل میڈیا پر "انشاءاللہ" کو لے کر ایک تحریر گردش کر رہی ہے لکھنے والے نے کہاں تک صحیح لکھا ہے اس کا ہم نے جائزہ لیا ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

*ایک لفظی غلطی جسکی درستگی لازم هے*

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ " ﻟﮑﮭﺎ،
ﺗﻮ کسی ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻟﻔﻆ "ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ" ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ،
ﺑﻠﮑﮧ یه
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "* ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ…
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻟﮓ الگ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮا-

ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﺳﻮﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ،
ﺁﭖ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﺩﯼ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻭﮞ گا"

خود سے ﺗﺤﻘﯿﻖ کی
تو ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺻﺤﯿﺢ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔

ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
"ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ "

ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﮔﺮ " ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ " ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ مطلب بنتا هے
"ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ" ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﺍﻟﻠﮧ

ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﻮ ﻟﻔﻆ "ﺍﻟﻠﮧ "ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-

ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﮨﯿﮟ
ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺍﮐﯿﻼ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍ ہے...

1. ﻭَﻫﻮَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﺃَﻧْﺸَﺄَ ﻟَﮑُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَۃَ ﻗَﻠِﯿﻠًﺎ ﻣَﺎ ﺗَﺸْﮑُﺮُﻭﻥَ
سورة ﺍﻟﻤﻮﻣﻦ 78

2. ﻗُﻞْ ﺳِﯿﺮُﻭﺍ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﻓَﺎﻧْﻈُﺮُﻭﺍ ﮐَﯿْﻒَ ﺑَﺪَﺃَ ﺍﻟْﺨَﻠْﻖَ ﺛُﻢَّ ﺍﻟﻠَّﻪ ﯾُﻨْﺸِﺊُ ﺍﻟﻨَّﺸْﺄَۃَ ﺍﻟْﺂَﺧِﺮَۃَ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﮧَ ﻋَﻠَﯽ ﮐُﻞِّ ﺷَﯽْﺀ ٍ ﻗَﺪِﯾﺮ.
سورة ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ 20

3. ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧْﺸَﺄْﻧَﺎﻫﻦَّ ﺇِﻧْﺸَﺎﺀ ً
سورة ﺍﻟﻮﺍﻗﻌﮧ 35

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﯿﮟ " ﺍﻟﻠﮧ " ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ.
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﺍﻟﮓ ﻣﻌﻨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔۔

ﻟﻔﻆ
*"ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "*
ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
*" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "*

" ﺍﻥ " ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﺍﮔﺮ "
"ﺷﺎﺀ "ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﭼﺎﮨﺎ"
"ﺍﻟﻠﮧ "ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ " ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ "

ﺗﻮ ثابت هوا که ﻟﻔﻆ
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "*
ﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ۔۔

1. ﻭَﺇِﻧَّﺎ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻟَﻤُﮩْﺘَﺪُﻭﻥَ
سورة ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ 70

2. ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﺩْﺧُﻠُﻮﺍ ﻣِﺼْﺮَ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺁَﻣِﻨِﯿﻦَ
سورة ﯾﻮﺳﻒ 99

3. ﻗَﺎﻝَ ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺻَﺎﺑِﺮًﺍ ﻭَﻟَﺎ ﺃَﻋْﺼِﯽ ﻟَﮏَ ﺃَﻣْﺮًﺍ
سورة ﺍﻟﮑﮩﻒ 69

4. ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﯿﻦَ
سورة ﺍﻟﻘﺼﺎﺹ 27

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻟﻔﻆ
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "*
ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
*" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "*

انگریزی میں یوں لکھ جاسکتا ھے..
*"In Sha Allah"*

صدقه جاریه کے طور پر
اس معلومات کے فروغ کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی درخواست ھے..

جزاک الله

_____________________________________

                                  جواب

درست طریقہ تو "ان شاء اللہ" لکھنا ہے کیوں کہ یہ عربی کا جملہ ہے اور عربی میں "ان" حرف شرطیہ دوسرے کلمات سے ہمیشہ جدا کر کے لکھا جاتا ہے ملا کر لکھنا عربی رسم الخط کے خلاف ہے ....

 اور رہا معنی کا سوال تو ان شاء اللہ کا معنی ہے "اگر اللہ نے چاہا " اور انشاء اللہ کا معنی "اللہ کا (کسی چیز کو) پیدا کرنا.... "انشاء" فعل انشا ینشئ کا مصدر ہے اور جب تک کوئی قرینہ نہ پایا جائے مصدر کا مفعولی ترجمہ نہیں کیا جاتا اس لیے "انشاء" کا ترجمہ" اللہ کا پیدا کیا جانا" کرنا محض جہالت ہے ...

اردو میں چونکہ ان شاء اللہ کو ملاکر "انشاء اللہ " لکھنے کا رواج ہوگیا ہے لیکن اس سے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ...  "مجھ سے" کو اگر کوئی نادانی کی وجہ سے "مجھسے" لکھ دے تو انشاء اللہ کی طرح اس کا معنی بھی بدلنا چاہیے لیکن نہیں بدلتا تو معلوم ہوا کہ ان شاء اللہ کو اگر کوئی جہالت کی وجہ سے انشاء ﷲ لکھتا ہے تو معنی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ... اور اگر کوئی معنی کی تبدیلی پر مصر بھی ہے تو بھی ایسا معنی نہیں بنتا جس پر کفر کا فتوی ٹھونکا جائے بلکہ اس وقت بھی اللہ ہی کی ایک قدرت کی طرف اشارہ ہوتا ہے... "انشاء"کے معنی پیدا کرنا، تخلیق کرنا ہے اس کا ترجمہ "تخلیق کیا گیا" کرنا بالکل درست نہیں!

قرآن کی جتنی آیتیں پیش کی گئی ہیں سب میں "انشاء " کا ترجمہ " پیدا کرنا اور تخلیق کرنا " ہی ہے! 

اور یہ کہنا کہ لفظ "انشاء" کو اللہ کے ساتھ لکھنا بالکل غلط اور کفر ہے جہالت کی انتہا ہے۔۔۔کیونکہ قرآن میں جہاں جہاں انشاء آیا ہے اس کا فاعل اللہ ہی ہے ان تمام آیتوں میں اگر انشاء کا فاعل اللہ کے علاوہ کسی اور کو بنادیا گیا تو کفر ہوجائے گا۔۔۔

خلاصہ یہ ہے کہ "انشاء اللہ" کو کفر بتانے والا انتہائی درجہ کا جاہل تھا اسے صحیح ترجمے کا بھی علم نہیں تھا اس لیے اس کی تحریر کو لائق التفات نہ سمجھا جائے۔۔۔!

کتے

کتے صرف چار پیروں والے نہیں ہوتے، دو پیروں والے کتوں کی نسل بھی دنیا میں پائی جاتی ہے، ان کتوں کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ دانت سے نہیں کاٹتے بلکہ اپنی اس سڑی بسی زبان سے کاٹتے ہیں جو دوسروں کے تلوے چاٹتے چاٹتے موٹی ہوگئی ہے۔۔۔ان کتوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر وقتا فوقتا انہیں ان کے کتے ہونے کا احساس نہ دلایا جائے تو وہ پاگل ہوجاتے ہیں اور ہمیں ہر لمحہ ان کے کاٹے کا ڈر لگا رہتا ہے۔۔۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ کتے اپنے کتے پن کے باوجود ہاتھوں میں قلم پکڑنا جانتے ہیں اور منہ سے بھونکنے کی بجائے اسی قلم سے بھونکتے ہیں۔۔۔ کچھ کتے بھونکتے بھونکتے اتنے مشہور ہوجاتے ہیں کہ کتا یونین انہیں کتوں کا سردار بنادیتی ہے ۔۔۔اور پھر یہ کتے جس طرح سے چاہتے ہیں جیسے چاہتے ہیں لوگوں پر بھونکتے اور انہیں کاٹتے رہتے ہیں۔۔۔میرا بھی کئی مرتبہ ایسے کتوں سے سابقہ پڑ چکا ہے لیکن میں نے اپنے حواس بجا رکھے اور ان کتوں کو انہیں کی زبان میں جواب دے کر انہیں خاموش کیا۔۔۔
ان کی ایک بری عادت یہ بھی ہے کہ آپ کسی طریقے سے انہیں بھونکنے سے روک بھی دیں تو اندر ہی اندر غراتے رہتے ہیں۔۔۔گویا کہہ رہے ہوں آج تو بچ گیا آئندہ ہوشیار رہنا۔
ویسے مجھے ان کتوں سے کبھی کچھ لینا دینا نہیں رہا اور نہ ہی میں ان کتوں پر اتھارٹی ہوں۔۔۔ہاں اتنا ہے کہ جب سنسان سڑک پر اکیلے جارہا ہوتا ہوں تو ہر لمحہ اپنی تشریف خطرے میں نظر آتی ہے ۔۔۔
بھوت پریت کا میں کبھی قائل نہیں رہا اور نہ آئندہ قائل ہونے کی امید ہے لیکن کتوں کے وجود سے مجھے انکار نہیں ،آنکھ اور تشریف پاس میں ہے تو ہر جگہ کتے ہی کتے ہیں۔۔۔
جس طرح افطاری میں پکوڑے اور کلینگڑ ضروری ہیں اسی طرح دنیا میں ان کتوں کا وجود بھی ضروری ہے ۔۔۔
ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔۔۔دو پیروں والے کتوں کے وجود کا مقصد شاید یہ ہو کہ دوپیر والے انسان اپنی قدر پہچان سکیں اور ان کتوں کو دیکھ کر عبرت لیں تاکہ زندگی کے کسی بھی شعبہ میں ان سے "کتا پن" سرزد نہ ہوسکے۔۔۔!

سحری کی دعا(لفظ "غد" کا مسئلہ)

سوشل میڈیا پر آج کل سحری کی دعا میں مذکور لفظ "غد" کو لے کر خوب اعتراض کیا جارہا ہے اسی کو سامنے رکھ کر یہ تحریر لکھی گئی ہے!

روزے کی نیت کے سلسلے میں غیر مقلدین ہم پر دو اعتراض کرتے ہیں :
۱)ہم جن الفاظ سے نیت کرتے ہیں وہ احادیث سے ثابت نہیں ،بلکہ بدعت ہے۔
جواب اس کا یہ ہے کہ ہماری کسی کتاب میں بھی یہ لکھا ہوا دکھا دیں کہ نیت کے کچھ خاص الفاظ حدیث سے ثابت ہیں ، یا کسی خاص دعا کو احناف لازم قرار دیتے ہیں؛ بلکہ جہاں بھی دیکھیں گے یہی ملے گا کہ روزہ کی نیت کا دل میں کرلینا کافی ہے زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں ، ہاں زبان سے نیت کرلینا بہتر ہے، اور اسی وجہ سے(یعنی زبان سے نیت کرنے کے بہتر ہونے کی وجہ سے) وہ خاص دعا مشہور ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے ، لیکن معترضین کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس میں حنفیہ کا کچھ قصور نہیں بلکہ قصور تو ان کمپنیوں، ہوٹلوں، آفسوں اوردکانوں کا ہے جو رمضان کارڈ پر اس دعا کو لکھ کر عام کر رہے ہیں(ان میں خود غیر مقلدین بھی شامل ہیں)اور ناخواندہ عوام اسے ضروری سمجھ کر اس پر عمل کر رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ دعا پڑھ کر روزہ صحیح ہو جائے گا؟ جواب:ہاں؛ کیونکہ روزے کیلئے نیت کا ہونا ضروری ہے اور اس دعا کی وجہ سے نیت پا لی گئی؛ لیکن نیت کرنے والے کو یہ بات دھیان میں رکھنی چاہیے کہ یہ الفاظ حدیث سے ثابت نہیں ؛لیکن ہم یہ دعا اس لیے پڑھ لیتے ہیں ہمیں عربی آتی نہیں ،اور اردو میں یہ کہنے سے کہ’’میں اللہ تعالیٰ کےلئے رمضان کاروزہ رکھتا ہوں‘‘ انہیں الفاظ کو عربی میں ’’نویت ان اصوم غداً للّٰہ تعالی من شہر رمضان‘‘ کہہ لینے کو بہتر سمجھتے ہیں۔
جب ہم نیت کی دعا کو لازم وضروری قرار نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی اردو میں بھی نیت کرلے تو اس کا روزہ ہو جائے گا تو پھر بدعت کہاں!!؟
بدعت تو اسے کہتے ہیں کہ کسی چیز کو جو دین سے نہ ہو اسے دین سمجھ کر لازم کر لیا جائے۔
۲)دوسرا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ ہمارا روزہ صحیح نہیں ہوتا ؛کیونکہ ہم جس دن کا روزہ رکھتے ہیں اس سے اگلے دن کے روزے کی نیت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ نیت کی دعا میں لفظ ’’غد‘‘ ہے جس کا معنی( ان کے نزدیک) صرف ’’آئندہ کل‘‘ہے، اور آئندہ کل کی نیت کرنے سے آج کا روزہ کیسے ادا ہوگا؟
افسوس ان کی عقلوں پر اور عربیت سے ان کی نا واقفیت پر!انہیں’’ غدا‘‘ کے محل استعمال اور اس کے معنی کا ہی پتہ نہیں اور دعوی خود سے قرآن و حدیث سمجھنے کا!!
یہ بیچارے سمجھتے ہیں کہ ایک لفظ کا ایک ہی معنی ہوتا ہے ، اور وہ بھی وہ جو انہیں باپ دادا سے وراثت میں ملا ہوتا ہے ،لغت تو یہ دیکھ نہیں سکتے؛ کیونکہ اس کے لیے بھی علم کی ضرورت ہے اگر تھوڑا بہت جان لیا تو اردو -عربی اور عربی-اردو لغت دیکھ لیا ؛لیکن اس میں وہ سارے معانی کہاں ملنے والے جو عربی کی بڑی بڑی کتب لغات میں ملتے ہیں اور عربوں کے یہاں معتبر مانے جاتے ہیں، کہاں عربی لغت کی ۴۰،۴۵ جلدیں اورکہاں اردو کی مصباح اللغات، القاموس الوحید وغیرہ جو ایک یا زیادہ سے زیادہ دو جلدوں میں ہیں ،اب آپ ہی اندازہ لگائیے کہ جو باتیں ۲۵،۵۰ جلدوں میں ہیں وہ۱،۲ جلدوں میں کیسے آسکتی ہیں؟ اب اگر کوئی مصباح اللغات دیکھ کر یا باپ دادا سے وراثت میں ملے ہوئے معنی کو لیکر اعتراض کرتا ہے تو اسے کیا کہیں گے ؟یقیناً باؤلا کہیں گے۔
دیکھیے معترضین نے جس لفظ (غد) کو لے کر اعتراض کیا ہے اس کے وہی ایک معنی نہیں ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں یعنی(کل)؛بلکہ اس کے اور بھی معنی ہیں جن کا استعمال کلام عرب بلکہ خود قرآن میں بھی ہوا ہے۔
لغت کی ایک بڑی کتاب ’’النہایہ‘‘ میں حضرت عبدالمطلب کا ایک شعر ذکر کیا گیا ہے:
لایغلبن صلیبہم-ومحالہم غدواًمحالک
اس شعر کو ذکر کرنے کے بعد صاحب نہایہ کہتے ہیں کہ عبدالمطلب نے ’’غد‘‘ سے وہ کل مراد نہیں لیا ہے جو آج کے بعد آنے والا ہے ؛ بلکہ قریبی زمانے کو مراد لیا ہے(اور وہ قریبی زمانہ آج بھی ہو سکتا ہے اور کل کے بعد پرسوں، نرسوں بھی ہو سکتا ہے)۔
اسی طرح قرآن میں ہے:
’’ولا تقولن لشیئی إنی فاعلٌ ذلک غدا إلا أن  یشاء اللہ ‘‘
(ترجمہ:اور (اے پیغمبر!)کسی بھی کام کے بارے میں کبھی یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کل کرلوں گا، ہاں (یہ کہو) کہ اللہ چاہے گا تو(کرلوں گا)۔
اس میں بھی ’’غد‘‘ سے بعینہ کل مراد نہیں ہے ورنہ مطلب میں خلل آتا ہے ؛کیونکہ مقصود صرف کل کے کام کے لیے ان شاءاللہ کہنا نہیں ہے؛ بلکہ اگر آج ہی کوئی کام کرنا ہے تو بھی ان شاءاللہ کہنا ہے اور پرسوں، نرسوں کوئی کام کرنا ہے تو بھی ان شاءاللہ ضروری ہے، اگر وہاں اردو لغات والا معنی لیا گیا تو مطلب ہوگا کہ اگر کل کے دن کوئی کام کرنے کا ارادہ ہو تو ان شاءاللہ کہنا ضروری ہوگا دوسرے دن میں نہیں ۔
اسی طرح سورہ حشر میں ہے
’’ولتنظر نفس ما قدمت لغد‘‘
(ہرشخص یہ دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کیلئے کیا آگے بھیجا ہے)۔
اس میں بھی "غد" سے مراد آئندہ کل نہیں ہے بلکہ قیامت کا دن مراد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اب غیر مقلدین کیا کہیں گے!!!؟؟؟؟
بھائیوں غیر مقلدین! تحقیق کے لیے دیکھیے ’’اللسان‘‘’’تاج العروس‘‘ ’’المصباح‘‘عربی والی اور’’ مجمع البحار‘‘،اگر خود سے نہ پڑھ سکیں تو کسی قاسمی سے پڑھوالیں۔
یہ تو تھی ان کی عربیت سے ناواقفیت کی دلیل، ساتھ ساتھ یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ ان کا تفسیر سے بھی کوئی تعلق نہیں ورنہ کیا بات ہے کہ انہیں قرآن میں آئے لفظ’’ غد‘‘ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ۔ایک اور چیز ہے جس سے یہ ناواقف ہیں اور جسے عربی زبان کی کنجی کہا جاتا ہے، وہ ہے نحو وصرف یعنی عربی کے گرامر، اس میں ایک چیز ہے معرفہ نکرہ ، اس کے استعمال سے بھی معنی بدل جاتے ہیں ؛چنانچہ اسی لفظ ’’غد‘‘ کو لے لیجیے اگر اسے معرفہ یعنی الف لام کے ساتھ (الغد) استعمال کرتے ہیں تو عموماً اس کا معنی ’’آئندہ کل‘‘ ہوتا ہے، کبھی کبھی قرینہ کی وجہ سےدوسرے معنیٰ مراد لے لیئے جاتے ہیں جیسے اہل عرب کہتے ہیں ’’سیکون لک الغد الافضل‘‘ اس میں’’ الغد الافضل‘‘ سے مراد شاندار مستقبل ہے اور اس کا قرینہ لام اختصاص ہے۔ اور اگر نکرہ(غد) استعمال کرتے ہیں تو وہی معنی مراد ہوں گے جو عبد المطلب کے شعر اور قرآن میں ہیں، اور یہی استعمال (نکرہ والا) نیت کی دعا میں بھی ہے لہٰذا وہاں بھی وہی معنی مراد ہوگا یعنی صبح صادق کے فورا بعد والا زمانہ۔

غیر مقلدین کو تو ہماری فقہ سے خدا واسطے کا بیر ہے اس لیے ہم ان کے لیے تو نہیں ۔۔۔اپنے خدا ترس بندوں کے لیے یہ لکھ رہیں ہیں کہ ہماری فقہ کی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ روزہ دار رمضان کے مہینے میں چاہے جس روزے کی نیت کرے:نذر کی کرے، قضاء کی کرے، یاجس دن کی کرے :پیر کے دن منگل کی کرے ،بدھ کی کرے روزہ اسی دن کا ادا ہوگا جس دن میں یہ نیت کررہا ہے۔

بحثیتِ فردِ مسلم ہماری ذمہ داری

ہمارا سب سے بڑا المیہ۔۔۔ہماری بزدلی ہے۔۔۔اس سے انکار ممکن نہیں کہ ہم یا تو خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔۔۔ہمارے آس پاس کیا ہورہا ہے اس کی ہمیں خبر نہیں ہے یا ہمارے دل اتنے مردہ ہوچکے ہیں کہ ہمارے آس پاس جو کچھ بھی ہورہا ہے اس پر ہم تڑپنا نہیں جانتے ہیں۔۔۔یا سب کچھ ہوتا دیکھ کر بھی خاموش اس لیے ہیں کہ مصیبت ہم پر تھوڑے نازل ہوئی ہے ۔۔۔جب ہم پر آئے گی تو دیکھ لیں گے!!!
اگر ایسا ہے -خدا نہ کرے- تو ہم بے حس ہوگئے ہیں ہمارے لیے زمین کے اوپر کی جگہ سے اچھی جگہ زمین کے نیچے ہے۔۔۔
دنیا کی محبت اور موت سے کراہیت نے ہمیں بزدل بنادیا ہے۔۔۔آج مسلمانوں کی جتنی تعداد ہے ۔۔۔جتنے اسلامی ممالک ہیں پہلے اتنے نہ تھے مگر پھر بھی مسلمانوں کا ایک رعب و دبدبہ تھا ۔۔۔ دشمنوں کے پاس سامانِ جنگ کی کثرت کے باوجود ان کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ آنکھ اٹھاکر بھی مسلم ممالک کی طرف دیکھ لیں۔۔۔آج مسلمانوں کی اتنی کثرت کے باوجود ہر طرف سے ان پر مظالم کیوں ڈھائے جارہے ہیں؟ ۔۔۔۔جواب ہے ۔۔۔اور یہ کسی دانشور ، مفتی یا مفکر کا نہیں ہے ۔۔۔بلکہ ایسی شخصیت کا ہے جس کے جواب کو کوئی غلط نہیں کہہ سکتا۔۔۔کیا جواب ہے اور اسے کس نے دیا ہے دیکھیے:
: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "  يُوشِكُ أَنْ  تَدَاعَى عَلَيْكُمُ الأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَتَدَاعَى الأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا ، قُلْنَا : مِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : لا ، أَنْتُم يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ ، يَنْزَعُ اللَّهُ الْمَهَابَةَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ وَيَجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنَ ، قِيلَ : وَمَا الْوَهَنُ ؟ قَالَ : حُبُّ الْحَيَاةِ وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ "
آج مسلمانوں کی جو صورتِ حال ہے اور کثرت کے باوجود ہر طرف مارے کاٹے جارہے ہیں اس کی وجہ جب صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے دریافت کی تو آپ نے فرمایا تھا کہ وہ کثرت کے باوجود ہر طرف مارے کاٹے اس لیے جائیں گے کہ انہیں دنیا سے محبت ہوجائے گی اور موت کو ناپسند کرنے لگیں گے۔۔۔
اگر ہمیں دنیا میں عزت کے ساتھ بے خوف ہوکر جینا ہے تو دشمنوں کے دلوں میں اپنا خوف بِٹھانا پڑے گا، لیکن اس کے لیے مار کاٹ ضروری نہیں بس اس کا احساس دلادینا کافی ہوگا کہ ہم مقابلہ کرنے اور دشمنوں کو نقصان پہنچانے کی طاقت اور ہمت رکھتے ہیں ۔۔۔ضرورت پڑی تو استعمال بھی کرسکتے ہیں۔۔۔
یہ اس لیے ضروری ہے کہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اسی کا احترام کرتی ہے جس سے نفع پہنچنے کی امید یا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔۔۔جس سے نہ کوئی نفع پہنچتا ہو نہ نقصان اس کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔۔۔چیونٹی ہی کو لے لیجیے۔۔۔کتنا چھوٹا جانور ہے لیکن اگر بستر میں کہیں نظر آکر چھپ جائے تو نیند حرام کردیتی ہے۔۔۔کیوں؟ ۔۔۔اس لیے کہ وہ کاٹتی ہے ۔۔۔۔بچھو ڈنک مارتا ہے سانپ ڈستا ہے ۔۔۔اس لیے ان سب سے ڈرا جاتا ہے ۔۔۔۔یہ ہے انسانی فطرت!
اب ہم خود کو دیکھیں ہم صرف نفع اٹھانے کی چیز رہ گئے ہیں ۔۔۔"یُوز اینڈ تھرو" کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں بس ۔۔۔ہماری کوئی قیمت نہیں ہے اور نہ ہی ہماری کوئی آواز ہے ۔۔۔ہماری آواز تو اتنی پست ہوگئ ہے کہ اس کی باز گشت بھی سنائی نہیں دیتی۔۔۔موت سے فرار نے ہمیں موت سے پہلے ہزاروں دفعہ موت دیا ہے۔۔۔
دنیا سے محبت اور موت کو ناپسند کرنا ضعفِ ایمان کی دلیل ہے ۔۔۔اور ضعفِ ایمان سے روح میں کمزوری آتی ہے اور روح کمزور ہوجائے تو انسانی جسم بھی بے کار ہوجاتا ہے جسے ہر طاقت والا ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہتا ہے۔۔۔
جاگو جاگو۔۔۔اب بھی وقت ہے مسلمانو! کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر عمل کرو، دنیا کی محبت دل سے نکال دو، آخرت کی فکر کرو، عملِ صالح سے اپنے ایمان اور ایمانی قوت کو مضبوط کرو، اور دشمنوں کے دلوں میں اپنا رعب بیٹھانے کے لیے موجودہ دور میں کار آمد دفاعی طاقت بھی حاصل کرو، یہ فرض ہے" وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ "
ترجمہ:اور(مسلمانو! )جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو، جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے(موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے،(مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔
اس آیت کی تشریح میں مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک ابدی حکم ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شوکت قائم کرنے کے لیے ہر قسم کی دفاعی طاقت جمع کرنے کا اہتمام کرے۔قرآن کریم نے "طاقت" کا عام لفظ استعمال کرکے بتادیا ہے کہ جنگ کی تیاری کسی ایک قسم کے ہتھیار پر موقوف نہیں ؛بلکہ جس وقت جس قسم کی دفاعی قوت کار آمد ہو اس وقت اسی طاقت کا حصول مسلمانوں کا فریضہ ہے۔
ہمارے پاس ایمان کا جو قیمتی پھول ہے اسے بچانے کی تدبیر کرنی ہوگی اس پھول کی حفاظت کے لیے اللہ نے "واعدوا لھم ماستطعتم" کا جو کانٹا ہمیں دیا تھا اور جو "خوئے حریری" میں بدل گیا ہے اسے پھر سے کانٹے کی صفت میں لانا ہوگا تبھی خار و گل میں فرق ہوگا ورنہ صرف ہم نام کے مسلمان رہ جائیں گے اور یوں ہی مارے کاٹے جاتے رہیں گے۔۔۔ایسے وقت میں صرف دعا پر بھروسہ کر کے ایک کونے میں بیٹھ جانا اور یہ سمجھنا کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا غلط ہے ۔۔۔لیکن دعا کو بالکل فراموش کردینا بھی درست نہیں ۔۔۔بین بین اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔۔۔۔دعا کے ساتھ ساتھ مصائب کا مقابلہ کرنے کی کارگر تدبیریں بھی اختیار کرنی چاہیے۔۔۔

تمیزِ خار و گل سے آشکارا ☆ نسیمِ صبح کی روشن کی ضمیری
حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے ☆ اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری

اور امت کے قائدین کی قیادت کا جو مسئلہ ہے اس کے ذمے دار قائدین نہیں ہیں؛ بلکہ قصور وار ہم ہی ہیں ۔۔۔اگر امت کا ہر ہر فرد اس بیماری سے اپنے آپ کو بچالے جس کا حدیث میں تذکرہ ہے تو اللہ تعالی ان شاء اللہ ہمیں بہتر قائد بھی عطا فرمادے گا۔۔۔ورنہ اِس کمزور ایمان کے ساتھ اور دنیا کی محبت اور موت سے گھبرانے والے دل کے ساتھ ہماری قیادت کو اگر "صلاح الدین ایوبی" بھی آجائیں تو وہ بھی صرف جلسے کراتے رہ جائیں گے !
وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى * قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا * قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى۔
ترجمہ:اور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا اسے(دنیا میں) بڑی تنگ زندگی ملے گی، اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے، وہ کہے گا:"یارب! تونے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا، حالانکہ میں تو آنکھوں والا تھا؟ "اللہ کہے گا:"اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں مگر تونے بھلادیا اور آج اسی طرح تجھے بھلا دیا جائے گا۔
ہم قرآن کی اس آیت میں غور کریں کہیں اس لیے تو ہماری یہ حالت نہیں؟؟؟؟

رشتۂ نکاح

صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین نے حلال کاموں کو آسان سمجھا تو حرام سے بچنا ان کے لیے آسان ہوگیا..
اور ہم نے حلال کو مشکل اور دشوار سمجھا اس لیے حرام کاموں میں ہمیں سہولت نظر آنے لگی.

ایک حقیقی واقعہ
ایک غریب نوجوان ایک لڑکی کے گھر رشتے کے لیے گیا تو گھر والوں نے اس کی غربت کی وجہ سے اس رشتے سے انکار کردیا!
کچھ دنوں بعد ایک مالدار آوارہ نوجوان اسی گھر رشتہ لے گیا تو لڑکی کے گھر والوں نے فورا منظور کر لیا... اور کہنے لگے :
"شادی بعد سدھر جائے گا"!!

**-----***-----**-----**-----***-----**

*جب غریب نوجوان آیا تھا تب انہوں نے کیوں نہیں کہا تھا کہ"شادی بعد اللہ اسے مالدار کردے گا*!
کیا اللہ صرف ھادی(سدھارنے والا) ہے رازق(مالدار بنانے والا)نہیں؟؟؟؟

لمحۂ فکریہ

غیر مسلموں کے تہوار میں شرکت

  مولانا عمار خان ناصر نے فیس بک پر ایک سوال پوچھا ہے وہ سوال اور اس کا جو جواب میں نے دیا ہے وہ  آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیں:

*سوال:*
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں یہودیوں کو فرعون سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کی خوشی میں عاشورا کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ہم موسیٰ پر ان سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو بھی عاشورا کا روزہ رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ یہ بنیادی طور پر نہ تو ’’تشبہ بالیہود’’ کے پہلو سے تھا اور نہ کوئی ’’دن منانے’’ کے پہلو سے۔ مقصد ایک تو یہود کی تالیف قلب تھا اور دوسرے یہ جتلانا کہ مسلمان سارے انبیاء کو اپنا سمجھتے ہیں اور ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیا ولادت مسیح علیہ السلام کے موقع پر بھی مسلمان شرعی حدود میں رہتے ہوئے ایسا کوئی طریقہ اختیار کر سکتے ہیں جس سے اسلام کا یہ مزاج اور پیغام دنیا کے سامنے آ سکے؟

--------------------
*جواب:*
میں نے بہت غور کیا ..مجھے تو کوئی طریقہ نظر نہیں آیا ...
جو بھی طریقہ اختیار کریں گے وہ یا تو امورِ مذہبی سے ہوگا یا امورِ دنیوی سے... اگر امورِ مذہبی سے ہے تو اس کی نظیر ہمارے اسلام میں موجود ہوگی یا نہیں اگر موجود ہے تو سابقہ مذاہب کی جتنی باتوں کو اسلام میں برقرار رکھنا تھا اسے نبیﷺ کے واسطے سے باقی رکھ دیا گیا اور جن سے منع کرنا تھا ان سے منع کردیا گیا اب ہم اپنی طرف سے اسلام کے مذہبی امور میں کسی طرح کی کوئی کمی زیادتی نہیں کرسکتے ...
اور اگر اس مذہبی امر کی نظیر ہمارے دین میں موجود نہیں تو اسلام ہمیں دوسروں کے مذہبی طریقے کو اپنانے کی بالکل اجازت نہیں دیتا خاص طور سے جب کہ اس کی نظیر بھی موجود نہ ہو...
اور اگر اس طریقے کا دنیوی امور سے تعلق ہے تو ہم دیکھیں گے اس کا ہمارے مذہب پر کتنا اثر پڑتا ہے؟ ... اگر اس طریقے کو اپنانے سے ہمارے دین و مذہب پر آنچ آئے ... یا یہ احتمال ہو کہ ابھی تو  ہم یہ طریقہ اخوتِ باہمی کے جذبے سے اپنا رہے ہیں لیکن ہماری آئیندہ کی نسل اسے مذہبی شعار سمجھ کر منایا کرے گی تو یہ بھی ناجائز ہوگا ... اور خوب سمجھ لو کہ اکثر بدعات کو ایسی ہی سوچوں نے جنم دیا ہے.
اور اگر مذہب پر کوئی آنچ نہ آئے اور دینِ اسلام میں اس رسم کے گھس جانے کا خطرہ نہ ہو اور اس طریقے کی قرآن و حدیث سے تائید بھی ہوجائے تو جس کا جی چاہے اس طریقے پر عمل کرے اور جس کا نہ چاہے نہ عمل کرے...
نیز جس حدیث کو سامنے رکھ کر یہ سوال کیا گیا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ نے مسلمانوں کو عاشورہ کے روزے کا حکم دیا تو یہ بھی فرمایا کہ اس کے ساتھ آگے یا پیچھے ایک روزہ اور رکھ لینا تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہوجائے....
لہذا اس حدیث سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ہم ولادت عیسیٰ علیہ السلام کے موقعہ پر جو بھی طریقہ اپنائیں وہ ایسا ہونا چاہیے جو کلیتاً عیسائیوں سے مشابہت نہ رکھتا ہو....
اگر حدیث پر عمل کرنا ہے تو کیوں نہ پورے طریقے سے عمل کیا جائے؟؟؟؟
مولانا اشرف علی تھانوی رح فرماتے ہیں:
"آج کل یہ بے ہودہ رسم نکلی ہے کہ مسلمان کفار کے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں اور عید بقر عید کے موقع پر انہیں شرک شریک کرتے ہیں.. یہ تو وہی قصہ ہوگیا ہے جیسا کہ مشرکوں نے آپﷺ سے کہاتھا کہ:"اے محمد!ہم اور آپ صلح کرلیں...ایک سال آپ ہمارے دین کو اختیارکرلیں اور دوسرے سال ہم آپ کےدین کو اختیار کرلیں گے"
اسی وقت سورۂ "کافرون" نازل ہوئی یعنی نہ میں تمہارا دین اختیار کروں گا اور نہ تم میرا دین قبول کروگے... تمہیں تمہارا دین مبارک مجھے میرا میرا دین...لہذا کافروں کے میلوں اور تہواروں سے تو بالکل علیحدہ رہنا چاہیے .ہندوستان میں چونکہ سبھی مذاہب والے ایک جگہ رہتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ آپس میں لڑیں نہیں باقی مسلمانوں کو ان کےمیلوں ٹھیلوں اور تہواروں میں شرکت کرنے کو بالکل بند کردینا چاہیے"!
( اشرف التفاسیر جلد چہارم ص ۳۵۱)