شیطانی مفتی
*اللہ تعالی نے اپنے کچھ مخصوص بندوں کو عقل سلیم اور فہم سلیم عطا فرما کر قرآن و حدیث سے مسائل کے استنباط کی صلاحیت عطا کی تو دوسرے مقبول بندوں کو ان مسائل کی باریکیاں سمجھنے کی صلاحیت ودیعت فرما کر کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنے کا ملکہ دیا۔۔جب کہ کچھ بدنصیبوں کے دلوں ، آنکھوں اور کانوں پر مہر لگا دی گئی جس کی وجہ سے وہ کتاب و سنت سے مستنبط مسائل کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں نہ قرآن و حدیث پڑھ کر خود کچھ سمجھ سکتے ہیں ۔۔بس شیطان جو خرافات ان کے دل و دماغ پر الہام کرتا ہے اسی کو علم یقین جانتے ہیں اور اسی کو لوگوں میں عام کرتے ہیں جسے وہ "رائے" کا نام دیتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ "شیطانی فتوی" ہوتا ہے جس کی آڑ میں وہ "اسلامی فتووں" سے مسلمانوں کو بدظن کر دینا چاہتے ہیں۔۔۔یہی لوگ لبرل یعنی (شیطانی مفتی) کہلاتے ہیں!*
®منکووووووول™
بحثیتِ فردِ مسلم ہماری ذمہ داری
ہمارا سب سے بڑا المیہ۔۔۔ہماری بزدلی ہے۔۔۔اس سے انکار ممکن نہیں کہ ہم یا تو خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔۔۔ہمارے آس پاس کیا ہورہا ہے اس کی ہمیں خبر نہیں ہے یا ہمارے دل اتنے مردہ ہوچکے ہیں کہ ہمارے آس پاس جو کچھ بھی ہورہا ہے اس پر ہم تڑپنا نہیں جانتے ہیں۔۔۔یا سب کچھ ہوتا دیکھ کر بھی خاموش اس لیے ہیں کہ مصیبت ہم پر تھوڑے نازل ہوئی ہے ۔۔۔جب ہم پر آئے گی تو دیکھ لیں گے!!!
اگر ایسا ہے -خدا نہ کرے- تو ہم بے حس ہوگئے ہیں ہمارے لیے زمین کے اوپر کی جگہ سے اچھی جگہ زمین کے نیچے ہے۔۔۔
دنیا کی محبت اور موت سے کراہیت نے ہمیں بزدل بنادیا ہے۔۔۔آج مسلمانوں کی جتنی تعداد ہے ۔۔۔جتنے اسلامی ممالک ہیں پہلے اتنے نہ تھے مگر پھر بھی مسلمانوں کا ایک رعب و دبدبہ تھا ۔۔۔ دشمنوں کے پاس سامانِ جنگ کی کثرت کے باوجود ان کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ آنکھ اٹھاکر بھی مسلم ممالک کی طرف دیکھ لیں۔۔۔آج مسلمانوں کی اتنی کثرت کے باوجود ہر طرف سے ان پر مظالم کیوں ڈھائے جارہے ہیں؟ ۔۔۔۔جواب ہے ۔۔۔اور یہ کسی دانشور ، مفتی یا مفکر کا نہیں ہے ۔۔۔بلکہ ایسی شخصیت کا ہے جس کے جواب کو کوئی غلط نہیں کہہ سکتا۔۔۔کیا جواب ہے اور اسے کس نے دیا ہے دیکھیے:
: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمُ الأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَتَدَاعَى الأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا ، قُلْنَا : مِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : لا ، أَنْتُم يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ ، يَنْزَعُ اللَّهُ الْمَهَابَةَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ وَيَجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنَ ، قِيلَ : وَمَا الْوَهَنُ ؟ قَالَ : حُبُّ الْحَيَاةِ وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ "
آج مسلمانوں کی جو صورتِ حال ہے اور کثرت کے باوجود ہر طرف مارے کاٹے جارہے ہیں اس کی وجہ جب صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے دریافت کی تو آپ نے فرمایا تھا کہ وہ کثرت کے باوجود ہر طرف مارے کاٹے اس لیے جائیں گے کہ انہیں دنیا سے محبت ہوجائے گی اور موت کو ناپسند کرنے لگیں گے۔۔۔
اگر ہمیں دنیا میں عزت کے ساتھ بے خوف ہوکر جینا ہے تو دشمنوں کے دلوں میں اپنا خوف بِٹھانا پڑے گا، لیکن اس کے لیے مار کاٹ ضروری نہیں بس اس کا احساس دلادینا کافی ہوگا کہ ہم مقابلہ کرنے اور دشمنوں کو نقصان پہنچانے کی طاقت اور ہمت رکھتے ہیں ۔۔۔ضرورت پڑی تو استعمال بھی کرسکتے ہیں۔۔۔
یہ اس لیے ضروری ہے کہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اسی کا احترام کرتی ہے جس سے نفع پہنچنے کی امید یا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔۔۔جس سے نہ کوئی نفع پہنچتا ہو نہ نقصان اس کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔۔۔چیونٹی ہی کو لے لیجیے۔۔۔کتنا چھوٹا جانور ہے لیکن اگر بستر میں کہیں نظر آکر چھپ جائے تو نیند حرام کردیتی ہے۔۔۔کیوں؟ ۔۔۔اس لیے کہ وہ کاٹتی ہے ۔۔۔۔بچھو ڈنک مارتا ہے سانپ ڈستا ہے ۔۔۔اس لیے ان سب سے ڈرا جاتا ہے ۔۔۔۔یہ ہے انسانی فطرت!
اب ہم خود کو دیکھیں ہم صرف نفع اٹھانے کی چیز رہ گئے ہیں ۔۔۔"یُوز اینڈ تھرو" کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں بس ۔۔۔ہماری کوئی قیمت نہیں ہے اور نہ ہی ہماری کوئی آواز ہے ۔۔۔ہماری آواز تو اتنی پست ہوگئ ہے کہ اس کی باز گشت بھی سنائی نہیں دیتی۔۔۔موت سے فرار نے ہمیں موت سے پہلے ہزاروں دفعہ موت دیا ہے۔۔۔
دنیا سے محبت اور موت کو ناپسند کرنا ضعفِ ایمان کی دلیل ہے ۔۔۔اور ضعفِ ایمان سے روح میں کمزوری آتی ہے اور روح کمزور ہوجائے تو انسانی جسم بھی بے کار ہوجاتا ہے جسے ہر طاقت والا ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہتا ہے۔۔۔
جاگو جاگو۔۔۔اب بھی وقت ہے مسلمانو! کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر عمل کرو، دنیا کی محبت دل سے نکال دو، آخرت کی فکر کرو، عملِ صالح سے اپنے ایمان اور ایمانی قوت کو مضبوط کرو، اور دشمنوں کے دلوں میں اپنا رعب بیٹھانے کے لیے موجودہ دور میں کار آمد دفاعی طاقت بھی حاصل کرو، یہ فرض ہے" وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ "
ترجمہ:اور(مسلمانو! )جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو، جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے(موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے،(مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔
اس آیت کی تشریح میں مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک ابدی حکم ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شوکت قائم کرنے کے لیے ہر قسم کی دفاعی طاقت جمع کرنے کا اہتمام کرے۔قرآن کریم نے "طاقت" کا عام لفظ استعمال کرکے بتادیا ہے کہ جنگ کی تیاری کسی ایک قسم کے ہتھیار پر موقوف نہیں ؛بلکہ جس وقت جس قسم کی دفاعی قوت کار آمد ہو اس وقت اسی طاقت کا حصول مسلمانوں کا فریضہ ہے۔
ہمارے پاس ایمان کا جو قیمتی پھول ہے اسے بچانے کی تدبیر کرنی ہوگی اس پھول کی حفاظت کے لیے اللہ نے "واعدوا لھم ماستطعتم" کا جو کانٹا ہمیں دیا تھا اور جو "خوئے حریری" میں بدل گیا ہے اسے پھر سے کانٹے کی صفت میں لانا ہوگا تبھی خار و گل میں فرق ہوگا ورنہ صرف ہم نام کے مسلمان رہ جائیں گے اور یوں ہی مارے کاٹے جاتے رہیں گے۔۔۔ایسے وقت میں صرف دعا پر بھروسہ کر کے ایک کونے میں بیٹھ جانا اور یہ سمجھنا کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا غلط ہے ۔۔۔لیکن دعا کو بالکل فراموش کردینا بھی درست نہیں ۔۔۔بین بین اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔۔۔۔دعا کے ساتھ ساتھ مصائب کا مقابلہ کرنے کی کارگر تدبیریں بھی اختیار کرنی چاہیے۔۔۔
تمیزِ خار و گل سے آشکارا ☆ نسیمِ صبح کی روشن کی ضمیری
حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے ☆ اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری
اور امت کے قائدین کی قیادت کا جو مسئلہ ہے اس کے ذمے دار قائدین نہیں ہیں؛ بلکہ قصور وار ہم ہی ہیں ۔۔۔اگر امت کا ہر ہر فرد اس بیماری سے اپنے آپ کو بچالے جس کا حدیث میں تذکرہ ہے تو اللہ تعالی ان شاء اللہ ہمیں بہتر قائد بھی عطا فرمادے گا۔۔۔ورنہ اِس کمزور ایمان کے ساتھ اور دنیا کی محبت اور موت سے گھبرانے والے دل کے ساتھ ہماری قیادت کو اگر "صلاح الدین ایوبی" بھی آجائیں تو وہ بھی صرف جلسے کراتے رہ جائیں گے !
وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى * قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا * قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى۔
ترجمہ:اور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا اسے(دنیا میں) بڑی تنگ زندگی ملے گی، اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے، وہ کہے گا:"یارب! تونے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا، حالانکہ میں تو آنکھوں والا تھا؟ "اللہ کہے گا:"اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں مگر تونے بھلادیا اور آج اسی طرح تجھے بھلا دیا جائے گا۔
ہم قرآن کی اس آیت میں غور کریں کہیں اس لیے تو ہماری یہ حالت نہیں؟؟؟؟
رشتۂ نکاح
صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین نے حلال کاموں کو آسان سمجھا تو حرام سے بچنا ان کے لیے آسان ہوگیا..
اور ہم نے حلال کو مشکل اور دشوار سمجھا اس لیے حرام کاموں میں ہمیں سہولت نظر آنے لگی.
ایک حقیقی واقعہ
ایک غریب نوجوان ایک لڑکی کے گھر رشتے کے لیے گیا تو گھر والوں نے اس کی غربت کی وجہ سے اس رشتے سے انکار کردیا!
کچھ دنوں بعد ایک مالدار آوارہ نوجوان اسی گھر رشتہ لے گیا تو لڑکی کے گھر والوں نے فورا منظور کر لیا... اور کہنے لگے :
"شادی بعد سدھر جائے گا"!!
**-----***-----**-----**-----***-----**
*جب غریب نوجوان آیا تھا تب انہوں نے کیوں نہیں کہا تھا کہ"شادی بعد اللہ اسے مالدار کردے گا*!
کیا اللہ صرف ھادی(سدھارنے والا) ہے رازق(مالدار بنانے والا)نہیں؟؟؟؟
لمحۂ فکریہ
غیر اسلامی festivals اور مسلمان
کیا قربانی کرنا ظلم ہے؟؟؟
*بارہ ربیع الاول...یوم ولادت یا یوم وفات؟؟*
مسلمان جہاں جہاں بسے ہیں ہر سال جب بارہ ربیع الاول کا دن آتا ہے تو وہ عید میلاد النبی مناتے ہیں... اسٹیج لگائے جاتے ہیں لائٹوں سے گلیوں اور گھروں کو سجایا جاتا ہے ...
لوگ اس دن کا ایسے اہتمام کرتے ہیں جیسے یہ سنت ہو جس کے کرنے کی شریعت نے تاکید کی ہو حالانکہ یہ سنت نہیں ہے بلکہ بدعت ہے...اس دن کو منانے والے چاہے جتنی دلیلیں دے دیں لیکن ایک بات صاف طور سے محسوس ہوتی ہے کہ لوگوں پر جہل کا غلبہ ہوگیا ہے اور علم سے کوسوں دور ہوگئے ہیں...
جسے تاریخ کا ذرا بھی علم ہو وہ یہ سوچ کر حیران رہ جاتا ہے کہ آخر لوگ کس بات کی خوشی مناتے ہیں آپﷺ کی ولادت کی یا آپﷺ کی وفات کی؟؟؟
تاریخ کی گہرائی میں جھانکا جائے تو نظر آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت میں تو سخت ترین اختلاف ہوا ہے کوئی دو کوئی آٹھ کوئی نو کوئی دس تو کوئی بارہ ربیع الاول بتاتا ہے لیکن آپ کے یوم وفات میں اکّا دکّا کو چھوڑ کر سارے اس بات پر متفق ہیں کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بارہ ربیع الاول کے دن ہوئی ہے...
مشہور تو یہی ہے کہ ولادت بھی بارہ ربیع الاول کو ہوئی ہے لیکن محققین آٹھ ربیع الاول کو یوم ولادت بتانے پر متفق ہیں...
اور ہر مشہور بات سچی ہی ہو یہ ضروری نہیں کبھی کبھی غلط باتیں بھی مشہور ہوجاتی ہیں اور لوگ اسے سچا سمجھنے لگتے ہیں....بہر حال اتنے اختلافات کے بعد قطعی طور سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش بارہ ربیع الاول کو ہی ہوئی تھی جب کہ وفات کے سلسلے میں بارہ ربیع الاول کا دن یقینی ہے ...
اب آپ ہی بتائیے کہ اس دن کیا کرنا چاہیے شک پر عمل کرتے ہوئے جشنِ عید میلاد النبی میں ناچ گاکر شور ہنگامہ کرنا چاہیے یا وفات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وصیت کی تھی اسے پورا کرنے کی فکر کرنی چاہیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا چاہیے؟؟؟؟؟
ان عقل کے اندھوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ عید میلاد النبی اگر ایسی ہی محبوب اور مہتم بالشان عید ہوتی کہ اس کا منانا ہر مسلمان پر فرض ہوتا تو عیدین کی طرح اس عید کے دن میں بھی اختلاف نہ ہوتا ...
بالفرض مان بھی لیا جائے کہ جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ہے وہی دن آپ کی پیدائش کا بھی ہے تو بتائیے ہمیں خوشی منانا چاہیے یا غم؟؟؟
مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس دن جشن کیسے منایا جائے ... ایک ہی دن میں خوشی اور غم دونوں کا منانا یا خوشی کو غم پر ترجیح دے دینا عقل میں کیسے آسکتا ہے؟؟؟
اگر ان کے گھر میں شادی ہو اور اماں یا ابا کا انتقال ہوجائے تو یہ کیا کریں گے؟؟؟
عیدین میں ان کے بچے کا انتقال ہوجائے تو یہ کیا کریں گے؟؟؟
دودھ کا دودھ پانی کا پانی تو اس وقت ہوجائے گا جب بارہ ربیع الاول کے ہی دن ان کا کوئی عزیز فوت ہوجائے ... یقینا نبیﷺ کی محبت کے یہ جھوٹے دعویدار سارا جشن چھوڑ کر اپنے عزیز کی موت پر گھر کو سوگوار بنادیں گے!!!
اس دن کسی عزیز کے فوت ہونے پر ماتم ... اور جس کی وفات سے دنیا کو سب سے بڑا خسارا اٹھانا پڑا اس کے یوم وفات پر جشن؟؟؟؟
جس محبت کے دم پر یہ لوگ جشن عید میلاد النبی مناتے ہیں اسی محبت کا تقاضہ ہے کہ اس خوشی کا بالکل اظہار نہ کیا جائے...
اس عید کی تاریخ میں اور اس کے موجد کے سلسلے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے لیکن ان اختلافات کے باوجود ایک چیز مشترک نظر آتی ہے کہ اس عید کو ایجاد کرنے میں شیعوں و رافضیوں کا ہاتھ تھا کچھ نے خلافت کے زور پر اور کچھ نے دین کے نام پر اس عید کو پھیلانے کی کوشش کی تھی ... اس کے پیچھے ان کے دو مقصد تھے ایک تو یہ کہ وہ حُبِّ نبیﷺ کے نام پر مسلمانوں کو اپنی طرف مائل بھی کرلیں گے اور آپﷺ کی وفات کے دن خود بھی خوشی مناکر اور مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ وفاتِ نبی پر خوشی میں شریک کر کے اپنے دل کی بھڑاس بھی نکال لیں گے... اعاذنا اللہ منہ
حدیث میں ہے آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: "لاتجعلوا قبری عیدا " عید کہتے ہیں اس چیز کو جو بار بار لوٹ کر آئے ... آپﷺ کے کہنے کا مطلب تھا کہ تم میری قبر کی زیارت کے لیے کوئی خاص دن متعین نہ کرلینا کہ اسی دن ہر سال خاص طور سے لوٹ لوٹ کر آؤ اور اس دن کو عید بنالو...
ذرا سوچو جو نبی اپنی قبر کو عید بنانے سے منع کر رہا ہے وہ اپنی پیدائش کے دن کو عید بنانے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے ... ؟
ایسا کام جسے نہ صحابہ نے کیا ہو نہ تابعین نے نہ تبع تابعین نے اور نہ ان کے بعد سلف صالحین نے ...وہ کام شرعی کیسے ہوسکتا ہے... ؟
کیا مسلمانوں کے کرنے کو بس یہی ایک کام رہ گیا ہے جس سے وہ آپﷺ کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کرسکیں... اصل محبت تو اتباعِ نبی اور ان کے اسوہ کو اپنانے میں ہے ... نہ کہ ان کی باتوں کو ٹھکراکر ان کی نافرمانی کرنے میں ...!
آج کیا کیا نہیں ہورہا ہے جشنِ عید میلاد النبی کے نام پر.... گانا بجانا ... سڑکوں پر ناچنا جلوس نکال کر سڑکوں کو جام کرنا ... بے جا چیزوں اور بے جا جگہوں پر بلاوجہ پیسے اڑانا.... کہیں کہیں پر تو حد ہی ہوگئی ہے... اسٹیج پر آپﷺ کا نام لکھا ہوا ہے ڈی جے بج رہا ہے اور ایک عورت نیم برہنہ اسی اسٹیج پر شہوت انگیز ناچ ناچ رہی ہے...
آج سے بیالیس سال پہلے کا اشتہار دیکھیے:
*ڈرائیوان سینما میں جلسۂ سیرت النبیﷺ:*
*بروز جمعرات 18 اپریل 1974ء 6 بجے شام سے 12 بجے شب اس ماہ مبارک کی با برکت شب جمعرات بتاریخ 18/اپریل آپ جملہ حضرات اور خواتین سے درخواست کی جاتی ہے کہ اس جلسۂ مبارک کی عظمت و برکات میں شرکت فرماکر داخلِ حسنات ہوں-*
*حج اور زیارتِ مدینہ منورہ کی رنگین فلمیں پیش کی جائیں گی- داخلہ بالکل مفت ہے-"*
(جنگ: مورخہ ۱۵ اپریل ص ⁴ بحوالہ اصلاحی مضامین ص ۳۰ مفتی تقی عثمانی مدظلہ العالی)
آج سے بیالیس سال پہلے یہ حال تھا تو اب تصور کیجیے بعض شہروں میں کیا کیا نہ ہوتا ہوگا... نیٹ چلانے والے گوگل اور یوٹوب پر بارہ ربیع الاول کے دن ایسے جلسوں اور سینما گاہوں کا حال دیکھ کر بڑھتی بے دینی کا احساس کرسکتے ہیں!
مسلمانوں ! اب یہ کسی فرقہ کا مسئلہ نہیں رہا آج جس طرح سے جشن عید میلاد النبی میں بے حیائی کر کے دین کو بدنام اور اس کے وقار کو گھٹانے کی کوشش کی جارہی ہے ایسی حالت میں تمام مسلمانوں کی ذمہ یہ فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اس طرح کے حیا سوز جلسوں کے خلاف کھڑے ہوں اور نبیﷺ کے تئیں اپنی محبت کا پورا پورا ثبوت دیں ... اور یاد رکھیں کے جو دین ناچ گانے اور بے حیائی کو ختم کرنے کے لیے آیا ہو وہ خود ان چیزوں کی اجازت کیسے دے سکتا ہے...؟؟ اگر کوئی ان چیزوں کو کرتا ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تو ہوسکتا ہے لیکن مُحب نہیں ... اور جو نبی کے دشمنوں کا ساتھ دے گا وہ بھی نبی کا دشمن ہوجائے گا اور جس نے نبی سے دشمنی کی اللہ اس کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا...
اب بھی موقعہ ہے سوچنے کا... سمجھنے کا.... سنبھلنے کا...سنبھل جاؤ مسلمانو! سنبھل جاؤ!